Arooz is now on the App Store, for iPhone and iPad. Download

غم فراق کا کھٹکا وصال یار میں ہے

منشی شیو پرشاد وہبی

غم فراق کا کھٹکا وصال یار میں ہے

خزاں کا خوف ہمیں موسم بہار میں ہے

نکل کے جسم سے آنکھوں میں آ کے ٹھہری ہے

ہماری روح رواں کس کے انتظار میں ہے

کسی کو نقد شہادت نہ دے سکی اب تک

برائے نام یہ کوڑی تری کٹار میں ہے

کدورت ان کو ہے مجھ سے یہ صاف ثابت ہے

جو خط لکھا ہے تو وہ بھی خط غبار میں ہے

شب فراق کے صدمے اٹھاؤں گا کیوں کر

سکت ذرا بھی نہیں اب تو جان زار میں ہے

گناہ گار رہوں صدقے ہوتی ہے رحمت

وہ دوزخی ہوں کہ جنت بھی اختیار میں ہے

نہ جانئے گا کہ میں دور دور رہتا ہوں

تصور آپ کا ہر دم مری کنار میں ہے

دم آ کے آنکھوں میں دیکھے تو راہ ان کی مگر

غضب یہ ہے کہ تغافل مزاج یار میں ہے

شب فراق کا پوچھو نہ حال کچھ وہبیؔ

زیادہ حشر کے دن سے مرے شمار میں ہے