Arooz is now on the App Store, for iPhone and iPad. Download

غم سے نا اہل وفا حشر تک آزاد نہ ہو

بیتاب عظیم آبادی

غم سے نا اہل وفا حشر تک آزاد نہ ہو

مر کے سو بار ہو زندہ تو کبھی شاد نہ ہو

اس نشیمن میں دھرا کیا ہے کہ برباد نہ ہو

چار تنکے ہوں پڑے اور کوئی بنیاد نہ ہو

کیا کہا تھا تری آنکھوں نے نظر ملتے وقت

پھر نظر مجھ سے ملا لے جو تجھے یاد نہ ہو

کوئی گاہک نہیں مرجھائے ہوئے پھولوں کا

کسی سینے میں الٰہی دل ناشاد نہ ہو

خوش ہو بلبل کہ سزاوار اسیری ٹھہری

وائے اس پر ہے کہ جس کا کوئی صیاد نہ ہو

تیری آنکھوں کا جو مارا نہیں زندہ ہی نہیں

ہے وہی عین غلط جس پہ ترا صاد نہ ہو

سامنے آ گئی ہے منزل پا لغز فراق

مدد اے عشق کوئی راہ میں افتاد نہ ہو

جو غبار اٹھتا ہے کہتا ہے بآواز بلند

سر نہ اس خاک کا اونچا ہو جو برباد نہ ہو

دل شکستہ نہ ہو ٹوٹے گا قفس خود بیتابؔ

وقت کی بات ہے ممکن نہیں آزاد نہ ہو