Arooz is now on the App Store, for iPhone and iPad. Download

آج صیاد نے بھولے سے چمن دکھلایا

نسیم میسوری

آج صیاد نے بھولے سے چمن دکھلایا

میری تقدیر نے پھر مجھ کو وطن دکھلایا

عین مستی میں جو وہ شوخ ہوا سر کہ جبیں

یہ اڑے ہوش کہ نشے نے ہرن دکھلایا

جھٹ پٹا وقت ہوا موت کا ساماں شب وصل

سحر ہجر کا مردوں نے کفن دکھلایا

چاند کو دیکھتے ہیں لوٹتے انگاروں پر

تم نے کیوں کبک دری کو یہ چلن دکھلایا

آئے واللہ دل حیران میں کیا کچھ ارماں

اس نے آئینے کو تن تن کے جو تن دکھلایا

مرتے جیتے ہی رہے ہم تو اجی دم دم میں

نہ کمر اس نے دکھائی نہ دہن دکھلایا

یاد میں پھول سے گالوں کے سنبھالا دل کو

کبھی نسریں تو کبھی اس کو سمن دکھلایا

پھر ترا شور تبسم جو نمک ریز ہوا

پھر مرا تازہ مجھے زخم کہن دکھلایا

کل جو تھا وعدۂ وصل آج وہ فردا نکلا

دن قیامت کا تو اے وعدہ شکن دکھلایا

کیوں نہ میں خار بنوں چشم رقیباں میں نسیمؔ

پھول سے گال مجھے غنچہ دہن دکھلایا