Arooz is now on the App Store, for iPhone and iPad. Download

غمزۂ معشوق مشتاقوں کو دکھلاتی ہے تیغ

بیان میرٹھی

غمزۂ معشوق مشتاقوں کو دکھلاتی ہے تیغ

صورت ابرو ہمارے سر چڑھی جاتی ہے تیغ

ہوتے ہیں قرباں شہادت میں گلے مل کر شہید

دوش قاتل پر ہلال عید بن جاتی ہے تیغ

پست خم کھائے ہوئے لب خشک دم ڈوبا ہوا

چلتے چلتے اب تو او ظالم تھکی جاتی ہے تیغ

بے گناہی کا برا ہو زخم بے لذت ہوئے

دست قاتل میں برنگ بید تھراتی ہے تیغ

اس کی گردن پر مرا خوں اس کا احساں میرے سر

اس سے جھک جاتا ہوں میں اور مجھ سے جھک جاتی ہے تیغ

پار دریائے شہادت سے اتر جاتے ہیں سر

کشتیٔ عشاق کی ملاح بن جاتی ہے تیغ

خون گرماتا ہے جب پانی میں لہراتا ہوا

مثل ماہی خوف کے مارے اچھل جاتی ہے تیغ

ابروئے خوں خار قاتل کا کوئی پرساں نہیں

اب نکلتی ہے کہیں تو قرق ہو جاتی ہے تیغ

کب بجھے اس طرح ہے شوق شہادت کی یہ پیاس

زخم کے منہ میں زباں بن کر نکل آتی ہے تیغ

مرحبا جذب شہادت اس کا مغرب ہے گلو

آپ منزل پر ہلال آسا پہنچ جاتی ہے تیغ

تشنہ کامو گھاٹ سے اترے تو بیڑا پار ہے

چشمۂ کوثر چھلکتا ہے کہ لہراتی ہے تیغ

لڑتی ہے چھینٹے لب جو رنگ کیسا لال ہے

مار کر پانی میں غوطہ خوں میں نہلاتی ہے تیغ

زخم کاری نے کہیں منہ کھول کر کچھ کہہ دیا

کیا ہوا قبضہ سے باہر کیوں ہوئی جاتی ہے تیغ

جان سے عشاق جاتے ہیں گزر کٹتے ہیں غیر

پل صراط امتحان عشق کہلاتی ہے تیغ

آفتاب داغ سودا کی حرارت دیکھ کر

چھاؤں میں دل تفتگان غم کو بٹھلاتی ہے تیغ

مدعی در پردہ کٹ کٹ جاتے ہیں شکل نیام

اے بیاںؔ میری زبان تیز کہلاتی ہے تیغ