Arooz is now on the App Store, for iPhone and iPad. Download

فاسق جو اگر عاشق دیوانہ ہوا تو کیا

قاسم علی خان آفریدی

فاسق جو اگر عاشق دیوانہ ہوا تو کیا

دنیا کے مطالب کو فرزانہ ہوا تو کیا

غفلت میں کوئی پڑ کر گر عمر کو کھو ڈالے

بعد اس کے اگر سمجھا پھر سیانا ہوا تو کیا

یہ عمر غنیمت ہے جو دم کہ گزرتا ہے

گر خانہ ہوا تو کیا ویرانہ ہوا تو کیا

نظارہ تو کر اے دل ہو شان میں دلبر کا

گر بھوکا جو ٹل جاوے پھر کھانا ہوا تو کیا

دے جام تلطف سے ساقی بہ لب تشنہ

دل پیاس سے جب کملا پیمانہ ہوا تو کیا

ہے کام ستے مطلب بر آوے کسی ڈھب سے

کعبہ جو ہوا تو کیا بت خانہ ہوا تو کیا

جو مرد یگانہ ہے نفس اپنے سے لڑتا ہے

گر اور طرح کوئی مردانہ ہوا تو کیا

الجھا ہے یہ دل پیارے زلف اپنی کو سلجھاوے

جب مر گئے جانی ہم پھر شانہ ہوا تو کیا

مکھڑے کی جھمک ساجن ٹک ہم کو بھی دکھلاؤ

گر آگے رقیبوں کے جھمکانہ ہوا تو کیا

گر سیر میسر ہو تجھ حسن کے باغستاں

بعد اس کے اگر مجھ کو مر جانا ہوا تو کیا

دل اپنے بیگانے سے کچھ ہم نے نہ پھل پایا

گر اپنا ہوا تو کیا بیگانہ ہوا تو کیا

کہتا تھا میں اس دل کو عاشق تو نہیں ہونا

اب بس کے اگر سمجھا پچھتانا ہوا تو کیا

مستانہ ہمیشہ رہو اے عاشق افریدیؔ

بے عشق اگر کوئی مردانہ ہوا تو کیا