Arooz is now on the App Store, for iPhone and iPad. Download

لب چپ ہیں تو کیا دل گلہ پرداز نہیں ہے

شوق قدوائی

لب چپ ہیں تو کیا دل گلہ پرداز نہیں ہے

سب کچھ ہے خموشی میں اک آواز نہیں ہے

کتنا ہی وہ جھڑکیں میں کہے جاتا ہوں اپنی

غیرت مری اب کچھ خلل انداز نہیں ہے

پہونچوں گا ضرور آج میں اس شوخ کے گھر میں

دیوار تو نیچی ہے جو در باز نہیں ہے

اس سمت مرض عشق کا انجام کو پہونچا

اس سمت توجہ کا بھی آغاز نہیں ہے

کیا سادہ دلی ہے کہ تری چین جبیں کو

میں ناز سمجھتا ہوں مگر ناز نہیں ہے

مرنا تھا کہ صحت مرض عشق سے پائی

اب کچھ بھی طبیعت ناساز نہیں ہے

کیوں سچ یہ کہا اس نے کہ الفت نہیں مجھ سے

یہ عیب ہی ظالم میں کہ دم باز نہیں ہے

روتے ہوئے جینے سے اجل عشق میں اچھی

مردے میں یہ خوبی ہے کہ غماز نہیں ہے

ذلت مجھے منظور مگر آؤں ترے گھر

کیا حرج محبت کا جو اعزاز نہیں ہے

کیوں بیٹھے ہیں ہم وعدۂ محبوب پہ خوش خوش

کیا کھوئے تلون بھی در انداز نہیں ہے

اے شوقؔ کہے دیتی ہے کچھ شکل خموشی

چپ کیوں ہو اگر دل میں کوئی راز نہیں ہے