Arooz is now on the App Store, for iPhone and iPad. Download

لطف آمیز ہر انداز ستم ہوتا ہے

سید واجد علی فرخ بنارسی

لطف آمیز ہر انداز ستم ہوتا ہے

درد بیمار نہ بڑھتا ہے نہ کم ہوتا ہے

بے قراروں کو نہیں راہ طلب میں مشکل

اک تڑپ میں حد منزل پہ قدم ہوتا ہے

دیکھتا ہے جو مرا حال وہ رو دیتا ہے

میرے پردے میں زمانہ پہ ستم ہوتا ہے

خوگر جور کو آزار میں بھی راحت ہے

دل تڑپتا ہے سوا جور جو کم ہوتا ہے

سننے والے ادھر آ دیکھ وہ وقت آ پہونچا

کہ اشاروں میں بیاں قصۂ غم ہوتا ہے

کیا قیامت ہے وہی دشمن جاں ہوتے ہیں

جن نگاہوں میں کچھ انداز کرم ہوتا ہے

تپش دل سے ہے ہنگامۂ ہستی بیدار

روح سو جاتی ہے کچھ درد جو کم ہوتا ہے

عجب آرام سے ہوں ترک تمنا کر کے

اب نہ ہوتی ہے خوشی مجھ کو نہ غم ہوتا ہے

کیف جو اصل میں ہے روح نشاط اے فرخؔ

وقت آخر وہی سرمایۂ غم ہوتا ہے