Arooz is now on the App Store, for iPhone and iPad. Download

فصل گل ساتھ لیے باغ میں کیا آتی ہے

شیخ علی بخش بیمار

فصل گل ساتھ لیے باغ میں کیا آتی ہے

بلبل نغمہ سرا رو رو بقضا آتی ہے

دل دھڑکتا ہے یہ کہتے ہوئے اس محفل میں

یاں کسی کو خفقاں کی بھی دوا آتی ہے

آج وہ شوخ ہے اور کثرت آرائش ہے

دیکھ کس واسطے پسنے کو حنا آتی ہے

کیا کھلے باغ میں وہ چشم حجاب آلودہ

آنکھ اٹھاتے ہوئے نرگس کو حیا آتی ہے

جاں کنی حسن پرستوں کو گراں کیا گزرے

بھیس میں حور بہشتی کے قضا آتی ہے

اس لیے رشک چمن باغ میں گل ہنستے ہیں

کہ اڑاتی تری رفتار صبا آتی ہے

مرض عشق سے بیمارؔ جو گھبراتا ہے

یار کہتا ہے مجھے خوب دوا آتی ہے