Arooz is now on the App Store, for iPhone and iPad. Download

فصل گل میں جو کوئی شاخ صنوبر توڑے

رجب علی بیگ سرور

فصل گل میں جو کوئی شاخ صنوبر توڑے

باغباں غیب کا اس کا وہیں پھر سر توڑے

دست صیاد میں کہتی تھی یہ کل بلبل زار

کیا رہائی کا مزا ہے جو مرے پر توڑے

خاک بھی خون کی جا نکلی نہ یہاں اے پیارے

بے سبب ہائے یہ فضا دون نے نشتر توڑے

وصل کے تشنہ لبوں کو نہ ہو مایوسی کیوں

دور پر ان کے فلک ہائے جو ساغر توڑے

میرے دلبر کو ملا دے جو کوئی مجھ سے سرورؔ

ابھی دیتا ہوں زر سرخ کے ستر توڑے