Arooz is now on the App Store, for iPhone and iPad. Download

فسردہ داغ جگر دل ربا نہیں رہتا

عبدالرحمان احسان دہلوی

فسردہ داغ جگر دل ربا نہیں رہتا

چراغ عشق کا ہرگز بجھا نہیں رہتا

بغل میں رشک سے دل دل ربا نہیں رہتا

خفا ہے یہ کہ تو مجھ سے خفا نہیں رہتا

ہمیشہ حسن سن اے بے وفا نہیں رہتا

کبھی زمانہ سدا ایک سا نہیں رہتا

بجھی جو شمع تو پروانوں پہ ہوا روشن

کہ بعد مرگ کوئی آشنا نہیں رہتا

کہاں وہ گریہ وہ نالہ وہ جاں بہ لب رہنا

کسی کا کام ہمیشہ بنا نہیں رہتا

خدانخواستہ تم تو صنم نہیں ایسے

تمہارے دل میں تو کینہ سدا نہیں رہتا

کہا جو میں نے کہ اے رشک ماہ گھر میں مرے

تو مہربانی سے کیوں اک ذرا نہیں رہتا

لگا یہ کہنے کہ ہاں ہاں ہے یہ بھی اپنا شوق

نہیں نہیں نہیں رہتا ہوں جا نہیں رہتا

جو مجھ کو کہیے میں آنکھوں سے ضبط گریہ کروں

مرا قصور نہیں دل مرا نہیں رہتا

یہاں مجھے ہی نصیحت کو ہیں سبھی موجود

وہاں تو ہوش کسی کا بجا نہیں رہتا

یہ داغ عشق ہے کیوں کر نہ گل کھلے اس کا

ہزار اس کو چھپاؤ چھپا نہیں رہتا

جو دل لیا ہے تو بوسہ بھی دو سمجھ رکھو

کہ بد معاملگی میں مزا نہیں رہتا

لگائی تاک ہے کیوں محتسب نے تجھ پہ دلا

اگر تو دختر رز سے بھلا نہیں رہتا

نہ کھینچ تیغ تو احسانؔ ناتوان پہ آہ

میاں یہ زور کسی کا سدا نہیں رہتا