Arooz is now on the App Store, for iPhone and iPad. Download

لڑ کے پھر آئے ڈر گئے شاید

Mir Taqi Mir (1723–1810)

لڑ کے پھر آئے ڈر گئے شاید

بگڑے تھے کچھ سنور گئے شاید

سب پریشاں دلی میں شب گزری

بال اس کے بکھر گئے شاید

کچھ خبر ہوتی تو نہ ہوتی خبر

صوفیاں بے خبر گئے شاید

ہیں مکان و سرا و جا خالی

یار سب کوچ کر گئے شاید

آنکھ آئینہ رو چھپاتے ہیں

دل کو لے کر مکر گئے شاید

لوہو آنکھوں میں اب نہیں آتا

زخم اب دل کے بھر گئے شاید

اب کہیں جنگلوں میں ملتے نہیں

حضرت خضر مر گئے شاید

بے کلی بھی قفس میں ہے دشوار

کام سے بال و پر گئے شاید

شور بازار سے نہیں اٹھتا

رات کو میرؔ گھر گئے شاید