Arooz is now on the App Store, for iPhone and iPad. Download

لگائے بیٹھے ہیں مہندی جو میرے خوں سے پوروں میں

عاشق اکبرآبادی

لگائے بیٹھے ہیں مہندی جو میرے خوں سے پوروں میں

یہی تو رہزنوں میں ہیں یہی ہیں دل کے چوروں میں

پڑے رہتے ہیں اکثر سوئے مشکیں روئے جاناں پر

بہت دیکھا ہے ہم نے اتفاق ان کالے گوروں میں

لگائی آگ ان کے حسن عالم سوز نے ہر سو

جلانے چو لکھا بیٹھے ہیں یوں کورے سکوروں میں

وفور صحبت اغیار سے کچھ ایسے کھل کھیلے

نہ وہ جھیپیں ہزاروں میں نہ شرمائیں کروروں میں

ہمیں کوئے بتاں سے دو قدم اٹھنے نہیں دیتی

ہماری ناتوانی ان دنوں ہے ایسے زوروں میں

اماں دیتا نہیں وہ چاہنے والوں کو مر کر بھی

ہمارے نام کو ظالم نے پٹوایا ڈھنڈوروں میں

مرے نالوں کا عاشقؔ رنگ اڑایا عندلیبوں نے

خرام یار کی شہرت ہوئی سارے چکوروں میں