Arooz is now on the App Store, for iPhone and iPad. Download

لہو ٹپکا کسی کی آرزو سے

بیان میرٹھی

لہو ٹپکا کسی کی آرزو سے

ہماری آرزو ٹپکی لہو سے

یہ ہے کس کا سویم پوچھا عدو سے

کہ دم ہے ناک میں پھولوں کی بو سے

وہ بچہ پرورش کرتی ہے الفت

جو پیکاں پوروے کی طرح چوسے

یہ ٹوٹے گی ہوائے گل سے واعظ

مری توبہ کو کیا نسبت وضو سے

اسے کہتے ہیں قمری طوق الفت

چھری لپٹی ہوئی ہے یاں گلو سے

یہ تاثیر محبت ہے کہ ٹپکا

ہمارا خوں تمہاری گفتگو سے

وہ ہیں کیوں حسن کے پردہ پہ نازاں

یہ سیکھا ہے ہماری گفتگو سے

کیا ہے دامن محشر کو افشاں

اڑے چھینٹے یہ کس کس کے لہو سے

سنا ہے جام تھا جمشید کے پاس

ارے ساقی فقیروں کے کدو سے

وہ شرمیلی نگاہیں کہہ رہی ہیں

ہٹا دو عکس کو بھی روبرو سے

لب گل رنگ پر ہے خال مشکیں

مگس اور پھول کی پتی کو چوسے

بیاںؔ خوف گنہ سے مر چکے تھے

مگر جاں آ گئی لا تقنطو سے