Arooz is now on the App Store, for iPhone and iPad. Download

مارے غصے کے غضب کی تاب رخساروں میں ہے

شوق قدوائی

مارے غصے کے غضب کی تاب رخساروں میں ہے

کل تو تھی پھولوں میں گنتی آج انگاروں میں ہے

تب کی سوزش سے مرے چہرے کی سرخی دیکھنا

کچھ تمہیں خوش رو نہیں یہ پھر طرح داروں میں ہے

روح تیرے گھر کو چھوڑے یہ کبھی ممکن نہیں

جسم میرا خاک ہو کر اس کی دیواروں میں ہے

اتنی زردی ساری دنیا کی خزاں میں بھی نہ ہو

جتنی اور ظالم تری الفت کے بیماروں میں ہے

یا گھٹے کچھ عشق میرا یا بڑھے دنیا میں حسن

یہ تو نا کافی ہے جتنا ان دل آزاروں میں ہے

آئنے میں ڈالتا ہے رخ پہ میری سی نگاہ

تو بھی میرے ساتھ الفت کے گنہ گاروں میں ہے

قدرت اتنے ناز پیدا کر سکے گی یا نہیں

ان کا جتنا صرف تیرے ناز برداروں میں ہے

مسئلہ کثرت میں وحدت کا ہوا حل تم سے خوب

ایک ہی جھوٹ اور تمہارے لاکھ اقراروں میں ہے

قید میں کتنی بڑھی میرے جنوں کی کاہلی

اس سے کم ہے جتنی دنیا بھر کے بے کاروں میں ہے

چاند ہی کہہ دے جو دیکھا ہو کہیں تجھ سا حسیں

اس نے بھی دیکھی ہے دنیا یہ بھی سیاروں میں ہے

کفر نے اسلام کو شاید کہیں مارا کہ شوقؔ

ماتمی پوشاک سے کعبہ عزاداروں میں ہے