Arooz is now on the App Store, for iPhone and iPad. Download

مجھ پر ان کا عتاب ہو ہی گیا

رنج حیدرآبادی

مجھ پر ان کا عتاب ہو ہی گیا

جان پر اک عذاب ہو ہی گیا

دل مرا آخر اے غم جاناں

تیرے ہاتھوں خراب ہو ہی گیا

لاکھ چاہا بچائے اس سے خدا

عشق خانہ خراب ہو ہی گیا

غیر نے امتحان دے ہی دیا

بے حیا کامیاب ہو ہی گیا

میکدے سے گیا جو مسجد کو

مجھ کو حاصل ثواب ہو ہی گیا

آپ کا اور میرا افسانہ

شہر میں انتخاب ہو ہی گیا

آخر اک روز وہ بت کافر

حسن میں لا جواب ہو ہی گیا

اس نے کی غیر کی طرف داری

یہ بھی روز حساب ہو ہی گیا

غش ہے زاہد شراب کوثر پر

اس کو شوق شراب ہو ہی گیا

دیکھنا نامہ بر کی طراری

یہ بھی حاضر جواب ہو ہی گیا

دشمنوں کی مراد بر آئی

دوستوں پر عتاب ہو ہی گیا

ایک دو وقت کے وہ ملنے میں

غیر سے بے حجاب ہو ہی گیا

وہ نہ اٹھے بغیر جان لئے

ان کا مقصد شتاب ہو ہی گیا

باتوں باتوں میں رنجؔ رنجؔ ان سے

آخر اک دن جناب ہو ہی گیا