Arooz is now on the App Store, for iPhone and iPad. Download

بس خاک قدم دیجئے تکرار بہت کی

عبدالرحمان احسان دہلوی

بس خاک قدم دیجئے تکرار بہت کی

مٹی مری اس خاک نے ہی خوار بہت کی

چڑ مجھ کو تجھے ریجھ کے تکرار بہت کی

خوش رہ کہ خوشامد تری اے یار بہت کی

ہرگز نہ گئی پیش نہ آیا مہ بے مہر

ہر چند کہ زاری پس دیوار بہت کی

لائی کشش دل ہی تمہیں تم نے تو ورنہ

یہاں آنے میں اک عمر تلک عار بہت کی

اس چشم نے دیکھا دل بیمار کو میرے

بیمار نے کل خاطر بیمار بہت کی

ابرو کی تصور میں ہوا قتل مرا دل

پھل کیوں نہ ملے مرد تھا تلوار بہت کی

عشاق میں میں ہی ہدف تیر ہوں اس کا

عظمت ہی یہی خدمت سرکار بہت کی

اس طرح کا بے دید تو غم ہوگا جہاں میں

کی ہم نے بھی ہے دید طرحدار بہت کی

صورت تری آگے ہی بھبوکا تھی ولیکن

زلفوں کے بکھرنے نے دھواندھار بہت کی

یہاں آٹھ پہر جنس سے وفا ہم نے دکھائی

دیکھا نہ خریدار تو ناچار بہت کی

یا رب نہ رہے نام جدائی کہ رہ عشق

آسان تھی پر اس نے ہی دشوار بہت کی

معلوم کوئی دن کو تجھے ہوگی حقیقت

کم اس ترے اقرار کی انکار بہت کی

ہر چند کہ خط سے بھی دھواں شکل ہے اے مہ

پر خط کی نہ رکھنے نے نمودار بہت کی

گھر میں نہ ترے کود سکا رات گئے میں

ہاں اپنی سی تدبیر تو اے یار بہت کی

بہبود کے آثار نہ دیکھے کبھو ہرگز

جس شخص نے اونچی تری دیوار بہت کی

کم ہم سا خریدار بہم پہنچے گا اس کو

کیوں عشق نے جنس غم بسیار بہت کی

بولا سر منصور سر دار پہ احساںؔ

حق ہے کہ سزا وار تھے پندار بہت کی