Arooz is now on the App Store, for iPhone and iPad. Download

محفل عشق میں جو یار اٹھے اور بیٹھے

عبدالرحمان احسان دہلوی

محفل عشق میں جو یار اٹھے اور بیٹھے

ہے وہ ملکہ کہ سبکبار اٹھے اور بیٹھے

رقص میں جب کہ وہ طرار اٹھے اور بیٹھے

بے قراری سے یہ بیمار اٹھے اور بیٹھے

کثرت خلق وہ محفل میں ہے تیری اک شخص

نہیں ممکن ہے کہ یکبار اٹھے اور بیٹھے

سر اٹھانے کی بھی فرصت نہیں دیتا ہے ہمیں

چو حباب سر جو یار اٹھے اور بیٹھے

خوف بدنامی سے تجھ پاس نہ آئے ورنہ

ہم کئی بار سن اے یار اٹھے اور بیٹھے

درد کیوں بیٹھے بٹھائے ترے سر میں اٹھا

کہ قلق سے ترے سو بار اٹھے اور بیٹھے

تیری دیوار تو کیا گنبد دوار بھی یار

چاہئے آہ شرربار اٹھے اور بیٹھے

آپ کی مجلس عالی میں علی الرغم رقیب

بہ اجازت یہ گنہ گار اٹھے اور بیٹھے

آپ سے اب تو اس احقر کو سروکار نہیں

جس جگہ چاہئے سرکار اٹھے اور بیٹھے

حضرت دل سپر داغ جنوں کو لے کر

یوں بر عشق جگر خوار اٹھے اور بیٹھے

چوں دلیرانہ کوئی منہ پہ سپر کو لے کر

شیر خونخوار کو للکار اٹھے اور بیٹھے

کفش دوز ان کے جب اپنے ہی برابر بیٹھیں

ایسی مجلس میں تو پیزار اٹھے اور بیٹھے

زاہد آیا تو گوارا نہیں رندوں ہم کو

اپنی اس بزم میں مکار اٹھے اور بیٹھے

دونوں کانوں کو پکڑ کر یہی ہے اس کی سزا

کہہ دو سو بار یہ عیار اٹھے اور بیٹھے

بیٹھتے اٹھتے اسی طرح کے لکھ اور غزل

جس میں احساںؔ ہو نہ پیکار اٹھے اور بیٹھے