Arooz is now on the App Store, for iPhone and iPad. Download

مجھے فریب وفا دے کے دم میں لانا تھا

ہجر ناظم علی خان

مجھے فریب وفا دے کے دم میں لانا تھا

یہ ایک چال تھی ان کی یہ اک بہانا تھا

نہ درد تھا نہ خلش تھی نہ تلملانا تھا

کسی کا عشق نہ تھا وہ بھی کیا زمانا تھا

کھلی جو آنکھ تو صیاد کے قفس میں کھلی

نہ باغ تھا نہ چمن تھا نہ آشیانا تھا

مرے نصیب میں تھی موت اس بہانے سے

کسی کا عشق مری موت کا بہانا تھا

کوئی کسی کا نہیں اس جگہ یہ محشر ہے

وہ دن گئے کہ ستم گر ترا زمانا تھا

ترے جمال کو تھا کوہ طور سے کیا کام

نگاہ بن کے مری آنکھ میں سمانا تھا

خبر کسے تھی کہ زانو سے سر اٹھا دوگے

ہمیں سے چوک ہوئی آپ میں نہ آنا تھا

ہزار رنج ہیں اب یہ بھی اک زمانا ہے

کوئی ملال نہ تھا وہ بھی اک زمانا تھا

پیامبر کہیں رستے ہی سے نہ پھر آئے

تجھے بھی اے دل بیتاب ساتھ جانا تھا

رقیب سے نہ کبھی حال درد دل کہتے

غرض یہ تھی کہ انہیں اس طرح سنانا تھا

سنا کیا کوئی خلوت میں رات بھر اے ہجرؔ

عجیب طرح کا دل کش مرا فسانہ تھا