Arooz is now on the App Store, for iPhone and iPad. Download

بستیاں کیسے نہ ممنون ہوں دیوانوں کی

مختار صدیقی

بستیاں کیسے نہ ممنون ہوں دیوانوں کی

وسعتیں ان میں وہی لائے ہیں ویرانوں کی

کل گنے جائیں گے زمرے میں ستم رانوں کے

خیر مانگیں گے اگر آج ستم رانوں کی

خواب باطل بھی تو ہوتے ہیں تن آسانوں کے

سعیٔ مشکور بھی ہوتی ہے گراں جانوں کی

زخم شاکی ہیں ازل سے نمک افشانوں کے

بات رکھی گئی ہر دور میں پیکانوں کی

وہ بنا ساز بھی ہوتے ہیں گلستانوں کے

خاک جو چھانتے پھرتے ہیں بیابانوں کی

ٹکڑے جو گنتے ہیں ٹوٹے ہوئے پیمانوں کے

جان بن جاتے ہیں آخر وہی مے خانوں کی

تیور آتے ہیں حقیقت میں بھی افسانوں کے

کچھ حقیقت بھی ہوا کرتی ہے افسانوں کی

ہو بھی جاتے ہیں رفو چاک گریبانوں کے

تنگ بھی ہوتی ہے پہنائیاں دامانوں کی

عبرت آباد بھی دل ہوتے ہیں انسانوں کے

داد ملتی بھی نہیں خوں شدہ ارمانوں کی

ذرے زندان ملامت بھی ہیں ویرانوں کے

در بنا کرتی ہیں دیواریں ہی زندانوں کی