Arooz is now on the App Store, for iPhone and iPad. Download

مدعا گریہ سے کچھ عشق کا اظہار نہیں

منشی بہاری لال مشتاق دہلوی

مدعا گریہ سے کچھ عشق کا اظہار نہیں

کیا کہوں تم سے کہ کہنے میں دل زار نہیں

اس میں کیا ذلت یوسف سر بازار نہیں

سامنے تیرے کوئی اس کا خریدار نہیں

ہو گیا آج سے بس علم قیافہ باطل

سادگی سے یہ کھلا تھا کہ ستم گار نہیں

سب طرح سے تو وہ اچھے ہیں پر اچھے کیا ہیں

اک یہی عیب ہے کیسا کہ وفادار نہیں

طلب بوسۂ رخسار کو جانے دیجے

کون سی بات ہے جس میں تمہیں انکار نہیں

یاں یہ منظور کہ مطلب کو زباں پر لائیں

واں ہے انگشت لبوں پر کہ خبردار نہیں

پوچھتے پوچھتے آ جاؤ میرے گھر کی طرف

ہے پتہ یہ کہ نشان در و دیوار نہیں

میرے رونے پہ وہ ہنس ہنس کے یہ کہنا تیرا

کہ تنک ظرف سے چھپتے کبھی اسرار نہیں

کوئی پس جائے کہ کٹ جائے بلا سے ان کی

کچھ خبر ان کو کسی کی دم رفتار نہیں

تار انفاس ہیں سینے کے نمایاں ورنہ

دیکھنے کو بھی گریباں میں کوئی تار نہیں

سچ تو یہ ہے کہ ہے مشتاقؔ عدو سے اچھا

ورنہ بندہ تو کسی کا بھی طرف دار نہیں