Arooz is now on the App Store, for iPhone and iPad. Download

آدمی آدمی سے ملتے ہیں

راغب بدایونی

آدمی آدمی سے ملتے ہیں

آپ بھی کیا کسی سے ملتے ہیں

یہ حسیں جس کسی سے ملتے ہیں

جانتا ہے مجھی سے ملتے ہیں

ہم سے فرقت نصیب کیا جانیں

جو مزے زندگی سے ملتے ہیں

کیا بتائیں جنوں میں کیا کیا لطف

ہم کو ان کی ہنسی سے ملتے ہیں

کیا کہیں جب وہ ملتے ہیں تنہا

ان سے ہم کس خوشی سے ملتے ہیں

اس کی صورت کو پھر کوئی دیکھے

جس سے وہ بے رخی سے ملتے ہیں

ان کی رخصت کے وقت ہم ان سے

ہائے کس بیکسی سے ملتے ہیں

لاکھ غم زندگی ہے خود یعنی

لاکھ غم زندگی سے ملتے ہیں

اپنے مذہب میں ہے نفاق حرام

جس سے ملتے ہیں جی سے ملتے ہیں

سخن داغؔ کے مرے راغبؔ

سخن شوقؔ ہی سے ملتے ہیں