Arooz is now on the App Store, for iPhone and iPad. Download

ملا ہوا کبھی سینے سے ان کے سینہ تھا

رنج حیدرآبادی

ملا ہوا کبھی سینے سے ان کے سینہ تھا

عجب وہ روز تھے یا رب عجب مہینہ تھا

عدم میں جا کے کہیں گے ہر ایک سے ہم بھی

عبث فضول جہاں میں ہمارا جینا تھا

دغا رقیب نے کی آپ سے تو کیا شکوہ

زمانہ اس کو کہے گا کہ وہ کمینہ تھا

یہ کیا کہ یوں ہی چلے میکدے سے حضرت شیخ

تمہیں خدا کی قسم کوئی گھونٹ پینا تھا

جو تم نے سینہ مرا چاک چاک کر ڈالا

ہر ایک زخم کو تار نگہ سے سینا تھا

مہک رہا تھا مرا گھر تمام وصل کی شب

وہ عطر بیز کسی کا بھی کیا پسینا تھا

نہیں ہے دل جو ہمارا تو شب کو محفل میں

ذرا خیال کرو خود ہی کس نے چھینا تھا

جو تم نے لیتے ہی جلدی سے اس کو توڑ دیا

ہمارا دل تھا کوئی یا یہ آبگینہ تھا

وہ رند ہوں کہ زباں پر بھی وقت مرگ مری

صراحی و خم و جام و ایاغ و مینا تھا

یہاں رہی کہ وہاں پہونچی رنجؔ کی میت

زباں پہ اس کی مگر رات دن مدینہ تھا