Arooz is now on the App Store, for iPhone and iPad. Download

مری ہر سانس کو سب نغمۂ محفل سمجھتے ہیں

اثر صہبائی

مری ہر سانس کو سب نغمۂ محفل سمجھتے ہیں

مگر اہل دل آواز شکست دل سمجھتے ہیں

گماں کاشانۂ رنگیں کا ہے جس پر نگاہوں کو

اسے اہل نظر گرد رہ منزل سمجھتے ہیں

الٰہی کشتئ دل بہہ رہی ہے کس سمندر میں

نکل آتی ہیں موجیں ہم جسے ساحل سمجھتے ہیں

طرب انگیز ہیں رنگینیاں فصل بہاری کی

مگر بلبل انہیں خون رگ بسمل سمجھتے ہیں

پگھل کر دل لہو ہو ہو کے بہہ جاتا ہے آنکھوں سے

ستم ہے شمع کو جو زینت محفل سمجھتے ہیں

کہاں ہوگا ٹھکانا برق رفتاری ان کی وحشت کا

کہ وہ منزل کو بھی سنگ رہ منزل سمجھتے ہیں

بگولے اڑ رہے ہیں جو ہمارے دشت وحشت میں

انہیں کو اے اثرؔ ہم پردۂ محمل سمجھتے ہیں