Arooz is now on the App Store, for iPhone and iPad. Download

مری میں جشن شب منور

عبدالعزیز فطرت

گھر اے دل بے قرار زنداں سے کم نہیں قید کون کاٹے

حسین سرما کا چاند دیوانہ وار کو بلا رہا ہے

فسون مہتاب کی قسم ہے پھر آج شب کچھ نہ لکھ سکوں گا

پھر آج گھر میں نہ رہ سکوں گا

کہ اک جنوں سا ہے مجھ پہ طاری

مناظر کوہ و کنج جشن شب منور منا رہے ہیں

بلا رہے ہیں مجھے مرے واسطے قیامت اٹھا رہے ہیں

غضب کی اس برف بستہ ٹھنڈی ہوا میں سیلاب چاندنی کا

بدن تو ہے منجمد رگوں میں لہو مگر تمتما رہا ہے

بلا کی ہے سرد رات لیکن میں آج آوارگی کروں گا

کہ چاند وادی کے ذرے ذرے کو جلوہ خانہ بنا رہا ہے

نہ رک سکوں گا میں آج گھر میں

کہ چاندنی کی کشش غضب ہے

سفینۂ شوق و شعر دنیائے نور میں ڈگمگا رہا ہے

سکوت شب میں فضا بھی جز و سکوت شب ہو گئی ہے فطرتؔ

مہ درخشاں فقط غزل میری زیر لب گنگنا رہا ہے

میں آج گھر پر نہ رک سکوں گا

حسین سرما کا چاند اشاروں سے دیکھ مجھ کو بلا رہا ہے