Arooz is now on the App Store, for iPhone and iPad. Download

میٹھی ہے ایسی بات اس کی

مرزا مسیتابیگ منتہی

میٹھی ہے ایسی بات اس کی

لونڈی ہے اک نبات اس کی

سمجھا نہ میں ایک بات اس کی

مجھ پر کیا کائنات اس کی

عالم ہے بے ثبات اے دل

اک ذات کو ہے ثبات اس کی

مہ اس کا ہے آفتاب اس کا

دن اس کا ہے اور رات اس کی

کس منہ سے کروں میں وصف اس کا

ہے عقل سے دور ذات اس کی

ممبر پہ جو بک رہا ہے واعظ

کب سنتا ہوں خیر بات اس کی

ہے دولت حسن پاس تیرے

دیتا نہیں کیوں زکوٰۃ اس کی

ہے جو کہ شہید تیغ تسلیم

ہے مثل خضر حیات اس کی

دم دے کے نہ نقد دل کو لے لے

چل جائے کہیں نہ گھات اس کی

جو دل کہ ہے غرق بہر دنیا

کیوں کر ہوگی نجات اس کی

دل جاتا ہے سوئے کوئے قاتل

خالق رکھے حیات اس کی

دم دے کے لے آیا یار کو دل

کیا رہ گئی آج بات اس کی

تنہا نہیں منتہیؔ کسی جا

تقدیر ہے اس کے ساتھ اس کی