Arooz is now on the App Store, for iPhone and iPad. Download

میں خودی میں مبتلا خود کو مٹانے کے لیے

آغا شاعر قزلباش

میں خودی میں مبتلا خود کو مٹانے کے لیے

تو نے تو ہر ذرے کو ضو دی جگمگانے کے لیے

ایک ادنیٰ سے پتنگے نے بنا دی جان پر

شمع نے کوشش تو کی تھی دل جلانے کے لیے

برق خرمن سوزاب رکھنا ذرا چشم کرم

چار تنکے پھر جڑے ہیں آشیانے کے لیے

منہ نہیں ہر ایک کا جو سختی گردوں سہے

کچھ کلیجہ چاہیے وہ زخم کھانے کے لیے

خوب بلبل کو سکھایا نالۂ مستانہ وار

خوب غنچے کو سمجھ دی مسکرانے کے لیے

اس قدر ارزاں ہوئی ہے آج کل جنس کمال

جھوٹے سکے ڈھل رہے ہیں ہر خزانے کے لیے

خواب میں بھی اب نہیں شاعرؔ وہ گرمی کلام

شمع سی اک رہ گئی ہے جھلملانے کے لیے