Arooz is now on the App Store, for iPhone and iPad. Download

میں گلہ کر رہا ہوں قسمت کا

سید امیر حسن بدر

میں گلہ کر رہا ہوں قسمت کا

کون موقع ہے یہ شکایت کا

تھا اثر دل میں کچھ محبت کا

پوچھتے تھے نشان تربت کا

بدرؔ وارفتہ ہو کے حضرت کا

کس سے ہے ادعا رقابت کا

ڈر نہ تھا دل میں کچھ قیامت کا

تھا بھروسا تری شفاعت کا

جل اٹھا دل میں داغ حسرت کا

بجھ گیا جب چراغ تربت کا

سن کے واعظ کی پی گئے مے کش

مقتضا تھا یہی شرافت کا

عرق آلودہ رخ کا وصف لکھا

عطر کھینچا گل لطافت کا

شب فرقت تھی رات تربت کی

روز فرقت تھا دن قیامت کا

نہیں ملتا ادا شناسوں کو

تولا ماشہ مزاج حضرت کا

زندگی کا بھی ٹھیکا لیتے ہو

وعدہ کرتے تو ہو قیامت کا

واہ رے حسن تیری رعنائی

رنگ بدلا حیا طبیعت کا

نہ تو مے ہے نہ جام و ساقی ہے

رنگ پھیکا ہے آج صحبت کا

شب گیسو سے بھی دراز ہے یہ

طول کیا کہئے روز فرقت کا

رتی سیم قمر کی چمکی ہے

اوج دیکھو تو اہل دولت کا

پست سے پست زینہ ہے کرسی

آپ کے بام عرش رفعت کا

کس غضب کی ہے سانولی صورت

شور عالم میں ہے ملاحت کا

بے حقیقت یہ خاک کا پتلا

اک نمونہ ہے تیری صنعت کا

آج کیا ہوں ازل سے پروانہ

میں تری شمع بزم قربت کا

دشت غربت میں میرے سر پر تھا

سائباں تیری نیلگوں چھت کا

بدرؔ تم بھی تو ہو بنی ہاشم

فخر بے جا نہیں سیادت کا

بدرؔ مرحوم کو خدا بخشے

آدمی تھا بڑی مروت کا