Arooz is now on the App Store, for iPhone and iPad. Download

بندہ پرور جو نہ پچھتائیے گا

قاسم علی خان آفریدی

بندہ پرور جو نہ پچھتائیے گا

بندہ خانہ پہ کبھی آئیے گا

یاد کیجے گا محبت اگلی

غیر کے ملنے سے شرمائیے گا

بوسہ دیجے گا گلے لگ لگ کر

زیادہ اور مجھ کو نہ بکوائیے گا

میرے غماز کو اپنے در سے

دھکے یکبار تو دلوائیے گا

حسن کے صدقے مری خاطر سے

کدر دل ذرا دھلوائیے گا

ستم و جور و جفا کا شیوہ

چھوڑ دیجے گا نہ بل کھائیے گا

طاقت و صبر تحمل میرا

لے کے کچھ اور ہی فرمائیے گا

زندگی ہجر میں ہونا معلوم

جی میں آتا ہے کہ مر جائیے گا

زلف میں دل کو پھنسا کر میرے

آپ شانے سے نہ سلجھائیے گا

صید مطلوب ہو تو بندہ کا سر

اپنے فتراک سے لٹکائیے گا

عرض افریدیؔ کی کیجے منظور

آپ تشریف ادھر لائیے گا

گر نہ مانو گے مری بات سنو

پھر نہ میرے تئیں سمجھائیے گا

یاں پہ موقوف ہے کیا افریدیؔ

منہ نہ پھر حشر کو دکھلائیے گا