Arooz is now on the App Store, for iPhone and iPad. Download

نہ جانے قافلے پوشیدہ کس غبار میں ہیں

اختر انصاری اکبرآبادی

نہ جانے قافلے پوشیدہ کس غبار میں ہیں

کہ منزلوں کے چراغ اب تک انتظار میں ہیں

بچا بچا کے گزرنا ہے دامن ہستی

شریک خار بھی کچھ جشن نو بہار میں ہیں

کسی جدید تلاطم کا انتظار نہ ہو

سنا تو ہے کہ سفینے ابھی قرار میں ہیں

پکارتے ہیں کہ دوڑو گزر نہ جائے یہ دور

چراغ بجھتے ہوئے سے جو رہ گزار میں ہیں

ابھی تو دور ہے منزل یہ قافلوں کے ہجوم

ابھی تو مرحلۂ جبر و اختیار میں ہیں

ابھی بہار نے سیکھی کہاں ہے دل جوئی

ہزار داغ ابھی قلب لالہ زار میں ہیں

نکھر نکھر کے جو مسموم کر رہے ہیں فضا

کچھ ایسے پھول بھی اخترؔ نئی بہار میں ہیں