Arooz is now on the App Store, for iPhone and iPad. Download

نہ بھولنا مجھے دل سے مری خبر لینا

رنج حیدرآبادی

نہ بھولنا مجھے دل سے مری خبر لینا

جو یاد آؤں کبھی میں تو یاد کر لینا

ہوئے ہیں خبط میں کیا مبتلا ترے عاشق

ضرور کیا ہے کہ دل دے کے درد سر لینا

وہ سب سے کہنے لگے تاک کر مرے دل کو

کسی طرح بھی ہے لینا اسے مگر لینا

شب وصال کی وہ شرم یاد آتی ہے

حیا سے منہ پہ دوپٹے کو اپنے دھر لینا

انہیں منا کے خوشامد سے التجاؤں سے

کسی طرح سے جواب اے پیامبر لینا

وہ آ کے لیٹے جو پہلو میں میرے وصل کی شب

کہا یہ دل نے مرے خواب رات بھر لینا

ہمارے دل کے خریدار اور بھی ہیں بہت

نہ دیر کیجئے منظور ہے اگر لینا

جسے وہ چاہیں بڑھائیں جسے وہ چاہیں گھٹائیں

یہ ان کا کھیل ہے دشمن کو دوست کر لینا

دکھا دکھا کے نہ تم اور مجھ کو ترساؤ

میں مر گیا تو مرے بعد بن سنور لینا

ملا کے خاک میں دل کو وہ میرے کہتے ہیں

یہ جس قدر ہوا نقصان ہم سے بھر لینا

جو تم میں ہے یہ کمال اور کو نصیب کہاں

دکھا کے جلوہ ہر اک کو غلام کر لینا

ہوا جو قطع تعلق تو کیا غرض اس سے

نہ آپ رنجؔ کا اب نام عمر بھر لینا