Arooz is now on the App Store, for iPhone and iPad. Download

نہ کیوں تیر نظر گزرے جگر سے

میر مہدی مجروح

نہ کیوں تیر نظر گزرے جگر سے

کہیں یہ وار رکتے ہیں سپر سے

کسی سے عشق اپنا کیا چھپائیں

محبت ٹپکی پڑتی ہے نظر سے

ہوئی ہے ان کے مشتاقوں سے رہ بند

وہ میرے گھر بھلا آئیں کدھر سے

بھلا دل کا کہاں ملنا کہ ان کی

نظر بھی تو نہیں ملتی نظر سے

مجھے دیوار حیرت نے بنایا

گیا ہے جھانک کر یہ کون در سے

کبھی ٹوٹیں کبھی صیاد کاٹے

غرض اڑنا نہیں ہے بال و پر سے

کہاں کی پیروی جب قصد یہ ہو

کہ آگے بڑھ کے چلیے راہ بر سے

نہ کھولیں گے تو یہ ٹوٹے گا آخر

کہ میں ٹکرا رہا ہوں سر کو در سے

لڑائی کا نہ میں توڑوں گا پھر تار

ذرا سی چھیڑ ہو جائے ادھر سے

اگر جاتی ہے جاں ملتا ہے جاناں

ہمیں تو نفع افزوں ہے ضرر سے

رہا دل میں نہ ہرگز تیر اس کا

ہمیں کھٹکا یہی تھا پیشتر سے

سوائے شر نہ کچھ دیکھا عدو سے

خدا محفوظ رکھے اس بشر سے

ہوا گو پائمال غیر مجروحؔ

نہ سرکا یار کے پر رہ گزر سے