Arooz is now on the App Store, for iPhone and iPad. Download

نہ پوچھو تم کو اور دشمن کو دل میں کیا سمجھتا ہوں

بوم میرٹھی

نہ پوچھو تم کو اور دشمن کو دل میں کیا سمجھتا ہوں

اسے الو تمہیں الو کا میں پٹھا سمجھتا ہوں

ڈروں کیوں وصل کی شب دھول دھپا ہاتھا پائی سے

اسے تو میں نیاز و ناز کا رگڑا سمجھتا ہوں

گیا بچپن شباب آیا بڑھاپا آنے والا ہے

مگر میں تو ابھی تک آپ کو بچہ سمجھتا ہوں

لیے جاتا ہے مجھ کو ساتھ کیوں دشمن کی محفل میں

ابے الو کے پٹھے اس میں کچھ دھوکا سمجھتا ہوں

بلاتی ہے مجھے گھر پر جو تم گھر پر نہیں ہوتے

تمہاری ماں کو تم سے ہر طرح اچھا سمجھتا ہوں

عدو کے گھر سے الٹا پائجامہ پہن کر آئے

اندھیری رات ہے کچھ دال میں کالا سمجھتا ہوں

یہ تم نے کیا کہا کیوں دل لگی کی میری اماں سے

اجی توبہ کرو میں تو اسے خالہ سمجھتا ہوں

جو پوچھا مجھ سے مشت خاک کو تم کیا سمجھتے ہو

تو فرمایا کہ استجنے کا میں ڈھیلا سمجھتا ہوں

شب وعدہ تیری لوٹ و پلٹ سے ناک میں دم ہے

کبھی الٹا سمجھتا ہوں کبھی سیدھا سمجھتا ہوں

کسی نے ان سے پوچھا بومؔ کو تم کیا سمجھتے ہو

تو بولے مسکرا کر الو کا پٹھا سمجھتا ہوں