Arooz is now on the App Store, for iPhone and iPad. Download

نہ گل سے کام ہے ہم کو نہ کچھ گلزار سے مطلب

مردان صفی

نہ گل سے کام ہے ہم کو نہ کچھ گلزار سے مطلب

بجاں رکھتے ہیں اک ہمدم بدل اک یار سے مطلب

نہ کام عالم سے ہے ہم کو نہ حورالعین جنت سے

ہے اک مدہوش دانا تر بدل‌ ہوشیار سے مطلب

نہ ملت ہے نہ مذہب ہے نہ ہے مطلب کوئی اپنا

وصال یار مذہب ہے اور ہے دیدار سے مطلب

تصور ہے نہ کام اپنا سوا مرشد کی نسبت کے

تجھے ہے ان دنوں اے دل شہ کرار سے مطلب

کہا مکر و مکر اللہ خیر الماکریں جس نے

چھپا خود مجھ کو ظاہر کر ہے اس مکار سے مطلب

میں وہ واصل ہوں دلبر سے کہ دل اپنا ہے وہ دلبر

رہا دل ہی سے کام اپنا اسی غم خوار سے مطلب

نہ ہم یہ ہیں نہ ہم وہ ہیں نہ ہم ہرگز ہیں گوشے میں

غلام قل ہو اللہ ہیں اسی اظہار سے مطلب

نہ کافر ہیں نہ مومن ہیں نہ مسجد ہے نہ مے خانہ

نہ تسبیح و مصلا ہے نہ ہے زنار سے مطلب

نہ ہم آدم نہ حوا ہیں نہ ہم حور و ملک یارو

نہ ہم گنجینہ پنہاں ہیں نہ ہے اظہار سے مطلب

زوال جان و تن ہے یاں نہ حرص ما و من باقی

حباب آب دریا ہیں نہ ہے افطار سے مطلب

نسب ہو یا حسب دونوں مبارک ہوویں زاہد کو

تجھے تو ہے فقط مرداںؔ شۂ ابرار سے مطلب