Arooz is now on the App Store, for iPhone and iPad. Download

نہ ہوا پر نہ ہوا وہ بت خود سر اپنا

عبد الہادی وفا

نہ ہوا پر نہ ہوا وہ بت خود سر اپنا

تجھ سے انصاف ہے اے داور محشر اپنا

بے قراری نے لگایا ہے ٹھکانے مجھ کو

پہلوے مہر قیامت میں ہے بستر اپنا

کیا کھلے پھرتے ہو تم قاتل عالم ہو کر

کیوں دکھاتے ہو تماشہ سر محشر اپنا

ہم نشیں محو تصور ہوں اٹھاؤں کیوں کر

دے گیا ہے کسی زانو کے تلے سر اپنا

مل گیا ایک نہ ملنے سے ترے کنج لحد

بن گیا ایک بگڑنے سے ترے گھر اپنا

مجھ سے کیا پوچھتے ہو دونوں جہاں پھونک بھی دو

جلنے والے بھی ہیں اپنے رخ انور اپنا

دل میں کیا سوچتے ہو تم جسے چاہو دیکھو

آنکھ اپنی ہے نظر اپنی ہے منظر اپنا

اس کی ترکیب خرابی سے ہے اللہ اللہ

وہ بگڑتے ہیں تو بنتا ہے مقدر اپنا

ہائے وہ رنگ محبت کہ تبسم بن کر

کسی آلودہ لب یار میں تھا گھر اپنا

کچھ خبر ہے تمہیں برگشتگی مژگاں کی

وہ نزاکت سے سنبھلتا نہیں نشتر اپنا

چاہئے آئینۂ دل پہ فنا کی صیقل

مٹتے ہی مٹتے چمک جائے گا جوہر اپنا

تیرہ بختی نے وفا خوب چھپا رکھا تھا

کھل گیا جلسۂ احباب پہ جوہر اپنا