Arooz is now on the App Store, for iPhone and iPad. Download

واہ کس رنگ پہ ہے رنگ بہار عارض

شاہ اکبر داناپوری

واہ کس رنگ پہ ہے رنگ بہار عارض

باغ فردوس کا ہر پھول نثار عارض

لیلۃ القدر ہے اے ماہ ترا خط سیاہ

صبح یوم العرفہ نور دیار عارض

سحر عید کا آئینہ سواد اس کا ہے

ہے چمکتی ہوئی اقلیم دیار عارض

ہے نظر خیرہ یہ ہے خط سیہ کا جلوہ

دن سے بڑھ کر ہے فروغ شب تار عارض

ہو چلا بارور اب نخل جوانی ان کا

چشم بد دور ہے آغاز بہار عارض

مہر سے بڑھ کے ہے ذرہ کی چمک اس رخ پر

فلک العرش ہے یا ہے یہ غبار عارض

حوریں مشاطہ ہیں ہر ہفت کی خدمت ہے انہیں

ماہ آئینہ ہے مہر آئینہ دار عارض

نور رخ سبزیٔ خط پیش نظر ہیں دونوں

میری آنکھوں میں ہے یہ لیل و نہار عارض

اے گل اندام ترے حسن کی رنگت ہے کچھ اور

پھول بھی صدقے ہیں بلبل بھی نثار عارض

آئنہ سامنے ہے محو تماشا ہیں وہ

دیکھتے ہیں مری آنکھوں سے بہار عارض

زلفیں رخ پر ترے بل کرتی ہیں زیبا ہے انہیں

ان کی جاگیر میں لکھا ہے دیار عارض

رنگ ہلکا سا گلابی ہے پھر اس پر خط سبز

قابل دید ہے اکبرؔ یہ بہار عارض