Arooz is now on the App Store, for iPhone and iPad. Download

وادی سندھ

شاہ دین ہمایوں

سندھ کی وادی پہ ہے کالی گھٹا چھائی ہوئی

برقعہ اوڑھے اک دلہن بیٹھی ہے شرمائی ہوئی

منتظر بارش کے ہیں مکی کے اور شالی کے کھیت

تشنگی سے خوشہ کی صورت ہے مرجھائی ہوئی

آج گاندر بل ہوا ہے اس کا منظور نظر

اس کے سر پر کیا گھٹا پھرتی ہے منڈلائی ہوئی

سندھ کے نالے کی آہوں کا دھواں شاید اٹھا

کیسی تاریکی ہے سطح آب پر چھائی ہوئی

قاصد ابر آ رہا ہے لے کے ہاں پیغام فیض

بارگاہ ایزدی میں کس کی شنوائی ہوئی

سوئے مشرق ہے سر کہسار پر بارش کا زور

رحمت باری ہے گویا جوش پر آئی ہوئی

اے ہمایوںؔ فیض بارش سے کھلے ڈل کے کنول

کیوں ترے دل کی کلی ہے آج مرجھائی ہوئی