Arooz is now on the App Store, for iPhone and iPad. Download

وہ شوخ بام پہ جب بے نقاب آئے گا

ہجر ناظم علی خان

وہ شوخ بام پہ جب بے نقاب آئے گا

تو ماہتاب فلک کو حجاب آئے گا

خبر نہ تھی کہ مٹیں گے جوان ہوتے ہی

اجل کا بھیس بدل کر شباب آئے گا

پڑے گا عکس جو ساقی کی چشم میگوں کا

نظر شراب میں جام شراب آئے گا

ہزار حیف کہ سر نامہ بر کا آیا ہے

سمجھ رہے تھے کہ خط کا جواب آئے گا

کلیم ہاں دل بیتاب کو سنبھالے ہوئے

سنا ہے طور پہ وہ بے نقاب آئے گا

جو آرزو ہے ہماری وہ کہہ تو دیں لیکن

خیال یہ ہے کہ تم کو حجاب آئے گا

یہ شوخیاں تری اس کم سنی میں اے ظالم

قیامت آئے گی جس دن شباب آئے گا

کبھی یہ فکر کہ وہ یاد کیوں کریں گے ہمیں

کبھی خیال کہ خط کا جواب آئے گا

چلا ہے ہجرؔ سیہ کار بزم جاناں کو

ذلیل ہو کے یہ خانہ خراب آئے گا