Arooz is now on the App Store, for iPhone and iPad. Download

وہ صفائی کبھی جو ہم سے ملاقات میں تھی

مرزا علی لطف

وہ صفائی کبھی جو ہم سے ملاقات میں تھی

صاف کل ساختگی اس کی ہر اک بات میں تھی

جو بھلی آ کے کہی سحر ہے سمجھا نہ اسے

کل بری جو کہی داخل وہ کرامات میں تھی

ہے دل غیر کو اس ناوک مژگاں سے اب انس

جو کہ نت اپنے جگر دوزیوں کے گھات میں تھی

سنتے ہیں غیر سے وہ بات بآواز بلند

کیا قیامت ہے کہ جو ہم سے اشارات میں تھی

کیا غضب ہے وہی آئینہ پن اب لاکھ سے ہے

جو صفائی کبھی ہم سے کسی اوقات میں تھی

کوئی حاجت نہیں اب غیر کی جو ہو نہ روا

یہ تو آگے نہ مرے قبلۂ حاجات میں تھی

اتنا جویائے ملاقات نہ ہوتا تھا لطفؔ

شکل نبھنے کی جو کچھ تھی سو مساوات میں تھی