Arooz is now on the App Store, for iPhone and iPad. Download

وہ جھنکار پیدا ہے تار نفس میں

شیر سنگھ ناز دہلوی

وہ جھنکار پیدا ہے تار نفس میں

کہ ہے نغمہ نغمہ مری دسترس میں

تصور بہاروں میں ڈوبا ہوا ہے

چمن کا مزہ مل رہا ہے قفس میں

گلوں میں یہ سرگوشیاں کس لیے ہیں

ابھی اور رہنا پڑے گا قفس میں

نہ جینا ہے جینا نہ مرنا ہے مرنا

نرالی ہیں سب سے محبت کی رسمیں

نہ دیکھی کبھی ہم نے گلشن کی صورت

ترستے رہے زندگی بھر قفس میں

کہو خواہ کچھ بھی مگر سچ تو یہ ہے

جو ہوتے ہیں جھوٹے وہ کھاتے ہیں قسمیں

میں ہونے کو یوں تو رہا ہو گیا ہوں

مری روح اب تک ہے لیکن قفس میں

نہ گرتا میں اے نازؔ ان کی نظر سے

دل اپنا یہ کم بخت ہوتا جو بس میں