Arooz is now on the App Store, for iPhone and iPad. Download

وہ ساغر شباب چھلکتا ہوا ہے کیا

عبد الہادی وفا

وہ ساغر شباب چھلکتا ہوا ہے کیا

آنکھوں سے یہ تراوش رنگ ادا ہے کیا

تیرا گناہ گار ہوں تیرے سوا ہے کیا

اپنی طرف تو دیکھ مجھے دیکھتا ہے کیا

جب دل ہی بجھ گیا تو کسی سے گلہ ہے کیا

جب میں نہیں رہا تو پھر اچھا برا ہے کیا

عذر جفا کے پردہ میں فکر جفا ہے کیا

ظالم پھر امتحان امید وفا ہے کیا

در پردہ پھر یہ رنجش طاقت گسل ہے کیوں

بے پردہ پھر یہ نازش صبر آزما ہے کیا

پھر یہ تغافل ستم بے حجاب کیوں

پھر یہ تجاہل نگہ آشنا ہے کیا

جادو طرازیٔ سخن دل نشیں ہے کیوں

نیرنگ وعدہائے تسلی فزا ہے کیا

افسون شوق گوش دو عالم میں پھونکنا

پھر مانگنا کہیں دل بے مدعا ہے کیا

خوں نابۂ سرشک پہ یوں خاک ڈالنا

پھر چھیڑنا کہ سرخیٔ رنگ حنا ہے کیا

پہلے کسی کے ناخن تدبیر توڑنا

پھر پوچھنا کہ عقدۂ بند قبا ہے کیا

محشر بھی ایک صفحۂ بزم خیال ہے

اعمال نامۂ نگۂ سرمہ سا ہے کیا

سیلاب آتشیں بنا موسیٰ ہے موجزن

خون بہار کیا رگ موج صبا ہے کیا

دیکھو حریف طعنۂ دشمن نہ ہو سکا

تم جانتے ہو یہ دل بے مدعا ہے کیا

تعبیر رنگ حال پہ جیتا ہوں ہائے ہائے

وہ مجھ سے پوچھتے ہیں تمہیں ہو گیا ہے کیا

تعلیم غیر سے بھی تغافل نہ چھوڑنا

ہم یاس پر جئیں گے امید وفا ہے کیا

آئینہ ہے گواہ کہ ہوں مظہر صفات

اے حسن بے حجاب مرا پوچھنا ہے کیا

تیری طرف ہیں ظاہر و باطن کھنچے ہوئے

ہستی کو چھوڑ دیکھ عدم میں رہا ہے کیا

شیرازۂ وجود و عدم ہے تری کمر

جو راز کھل گیا ہے وہی چھپ گیا ہے کیا

قربان اس بگاڑ کے صدقے بناؤ گے

جو تجھ پہ مٹ گیا ہے وہی بن گیا ہے کیا

ہے وقت نزع ناقۂ عمر رواں بھی گرم

ہے ہے شکست رنگ صدائے درا ہے کیا

کیوں دوستی کے پردہ سے آتی ہے بوئے غیر

خلوت گہہ وصال میں جوش حیا ہے کیا

مجبور ہو کے غیر کو اپنا بنا لیا

ظالم کی دشمنی بھی محبت فزا ہے کیا

توڑا ہے تم نے عہد محبت ہزار بار

آخر شکست شیشۂ دل کی صدا ہے کیا

احباب قدرداں ہیں سخن فہم اے وفاؔ

پھر تو بتا کہ تیری غزل کا صلہ ہے کیا