Arooz is now on the App Store, for iPhone and iPad. Download

وہ دریا بار اشکوں کی جھڑی ہے

بیان میرٹھی

وہ دریا بار اشکوں کی جھڑی ہے

کہ حوت آسماں تہہ میں پڑی ہے

مرے ارماں بتوں کی سرد مہری

زراعت برف کے پالے پڑی ہے

چمن میں سرو کا بہروپ بھر کر

قیامت منتظر کس کی کھڑی ہے

دہان تنگ غنچہ پتیاں لب

ہنسی ہے پھول فقرہ پنکھڑی ہے

لگا دی آگ کس شعلہ نے بلبل

ہر اک پھولوں کی ٹہنی پھلجھڑی ہے

نگاہ یاس کس کی کر گئی چوٹ

کہ گردن تیغ کی ڈھلکی پڑی ہے

عناصر جلد پہنچا دیں گے تا گور

نہایت تیز رو یہ چوکڑی ہے

کفن سے منہ لپیٹے میری حسرت

دل ویراں کے کونے میں پڑی ہے

سرہانے مدعی آیا تو جانا

جدائی کی گھڑی سر پر کھڑی ہے

کسی کو پار اتارے گا فلک کیا

اسی کی ناؤ چکر میں پڑی ہے

بنا لے عقل آگ کا پتلا فلاطوں

کہ تلچھٹ کچھ مرے خم میں پڑی ہے

نشہ ہے اور ہرن ہیں اس کی آنکھیں

نظر بازی ہرن کی چوکڑی ہے

نگاہ شوق سے سینہ چرایا

ہماری چوٹ تم سے بھی کڑی ہے

بلائے زلف مہماں سے کہوں کیا

نہیں ٹلتی مرے سر آ پڑی ہے

سیاہی دور ہوگی رفتہ رفتہ

ابھی زاہد کی داڑھی کڑبڑی ہے

سر محشر بڑھی ہے کس قدر زلف

قیامت کس قدر اوچھی پڑی ہے

گہر بیں ہے نظام الملک اپنا

طبیعت کیا بیاںؔ قسمت لڑی ہے