Arooz is now on the App Store, for iPhone and iPad. Download

وہ جو بولیں تو بات جاتی ہے

Dagh Dehlvi (1831–1905)

وہ جو بولیں تو بات جاتی ہے

چپ رہوں میں تو رات جاتی ہے

ساتھ حوروں کے ہے شہید ترا

کیا عدم کو برات جاتی ہے

مے کے پینے سے کر تو لوں توبہ

آرزوئے نجات جاتی ہے

دل لگی کا مزہ جب آتا ہے

ہستی بے ثبات جاتی ہے

خوب آتا ہے لطف آزادی

جب یہ قید حیات جاتی ہے

کیا کروں داغؔ وصل میں شکوہ

بات کہنے میں رات جاتی ہے