Arooz is now on the App Store, for iPhone and iPad. Download

وہ وہاں غیر کو مہمان کئے بیٹھے ہیں

عاشق اکبرآبادی

وہ وہاں غیر کو مہمان کئے بیٹھے ہیں

ہم یہاں عیش کا سامان کئے بیٹھے ہیں

زہر کھا لیں گے شب وعدہ نہ آؤ گے اگر

اپنی مشکل کو ہم آسان کئے بیٹھے ہیں

کل شب وصل تھی سب عیش میسر تھے ہمیں

آج ہم چاک گریبان کئے بیٹھے ہیں

عشق پردے میں رہے کب تلک اے جوش جنوں

ہم بھی طوفان کا سامان کئے بیٹھے ہیں

ان کی زلفوں کا تصور بھی غضب ہے عاشقؔ

دل کو خود اپنے پریشان کئے بیٹھے ہیں