Arooz is now on the App Store, for iPhone and iPad. Download

تاج

محمد صادق ضیا

جان گلشن اور جانان بہار

جاوداں شمع شبستان بہار

افتخار روزگار بے ثبات

یادگار بزم ویران بہار

اک دماغ صنعت مرحوم ہند

اک چراغ زیر دامان بہار

عنبریں سبزے پہ مختار ارم

مرمریں افسر پہ سلطان بہار

واقعی تعبیر خواب حسن و عشق

آخری تصویر طوفان بہار

خامشی کا نغمۂ مواج ہے

تاج اب بھی رفعتوں کا تاج ہے

صبح جنت کی صباحت اس میں ہے

شام گلشن کی لطافت اس میں ہے

اس کے ہر لمحے میں اک تازہ بہار

اک نئی ہر وقت جنت اس میں ہے

مادیت اس کو چھو سکتی نہیں

روح کی گویا حکومت اس میں ہے

جلوہ کاری کم سے کم اتنی تو ہو

دیکھیے جب ایک ندرت اس میں ہے

حسن کی جو مایۂ ممتاز تھی

اب بھی پنہاں وہ امانت اس میں ہے

عشرت نظارہ کی معراج ہے

تاج اب بھی عظمتوں کا تاج ہے

تاج اک بجلی ہے لہراتی ہوئی

اک تجلی کیف میں ڈوبی ہوئی

یا جبین حور کی کوئی شکن

اک بیاض نور میں لپٹی ہوئی

بام و در سے گنبد و مینار سے

ہر طرف اک چاندنی پھیلی ہوئی

آہ یہ محفل ضیا و حسن کی

چاند تاروں سے مرتب کی ہوئی

اس کے ہر گوشے میں ذروں کی طرح

دولت کونین ہے بکھری ہوئی

ہے کہیں نیلم کہیں پکھراج ہے

تاج اب بھی صنعتوں کا تاج ہے

وسعت کون و مکاں کا آئنہ

جلوہ زار کہکشاں کا آئنہ

جس کو دنیا کھو کے روتی ہی رہی

اس متاع رائیگاں کا آئنہ

ایک بزم رفتہ کا ماتم گسار

اک نشان بے نشاں کا آئنہ

دل کشا تصویر صبح انجمن

داستان پاستاں کا آئنہ

عظمت ممتاز کی اک جلوہ گاہ

شوکت شاہ جہاں کا آئنہ

یادگار محفل تاراج ہے

تاج اب بھی حیرتوں کا تاج ہے