Arooz is now on the App Store, for iPhone and iPad. Download

چاند اور سورج

علی منظور حیدرآبادی

ابر سیہ کی فرسودہ وہ چادر

تاریک رکھتی کب تک یہ منظر

طلعت پہ ظلمت کیا غالب آتی

کھلتے نہ کب تک فطرت کے جوہر

دامن گھٹا کا خود چاک کرکے

دیکھو وہ نکلا ماہ منور

یہ خاص مظہر مہر مبیں کا

کتنا حسیں ہے اللہ اکبر

جو روپ اس کا وہ روپ اس کا

اتنا مشابہ چہرہ ہے کس کا

مظہر جلالی مظہر جمالی

دونوں کی صورت ہے بھولی بھالی

دونوں سبک رواں کی روش سے

ظاہر نہیں ہے آشفتہ حالی

تابندہ ان کے فیض اثر سے

بزم خیالی بزم مثالی

دن اس سے تاباں رات اس سے روشن

زرکار سند کب دیکھی خالی

نظریں ہیں ان پر حسن اتم کی

جلووں سے اس کے شان ان کی چمکی

خوبی سے کوئی کب ہے معرا

قدرت کا شاہد ہے ذرہ ذرہ

لیکن ہے ان کی شان اور ہی کچھ

ارض و سما کو ہے ان پہ غرہ

آئے گہن میں بھی یہ تو کیا غم

ذات ان کی ظلمت سے ہے مبرا

ہیں میرے روز و شب ان سے دل کش

ہوتا ہوں ان سے خوش روزمرہ

کہتی ہے عشرت میری نظر کی

لے لو بلائیں شمس و قمر کی

خوش کن جب ان کا جاہ و حشم ہو

ذوق نظر پھر کیوں میرا کم ہو

بالغ نظر ہوں اس سے نہ کیوں خوش

کل نوریوں کی ضو جس میں ضم ہو

ہوں دیدہ ور کیوں اس سے نہ شاداں

تاروں کا باقی جس سے بھرم ہو

ان کی نمود ظلمت ربا پر

پرتو فگن جب نور قدم ہو

ہو چاند مدھم یا ماند سورج

چمکیں گے یوں ہی یہ چاند سورج