Arooz is now on the App Store, for iPhone and iPad. Download

چشم کو شوق اشک باری ہے

میر مظفر حسین ضمیر

چشم کو شوق اشک باری ہے

چشمۂ فیض ہے کہ جاری ہے

سوزن عیسوی سے کیا ہوگا

زخم اپنے جگر کا کاری ہے

ہم کہیں اور تم کہیں صاحب

خاک یہ زندگی ہماری ہے

رکھ کے سر اس قدم پہ مر جاتا

بس یہی طرز جاں نثاری ہے

کس کا سونا کسے ہے آتی نیند

شب ہجراں ہے اور اشک باری ہے

یہ جو اڑتی ہے تیرے کوچہ میں

خاکساروں کی خاکساری ہے

یہ سبک تو نے کر دیا ظالم

میرا مردہ بھی سب کو بھاری ہے

میرے جینے میں خوش نہ مرنے میں

پھر کہو کیا خوشی تمہاری ہے

ابر ساں ہے ہجوم بارش اشک

برق ساں شغل بے قراری ہے

جو نہیں تھا کسی شمار میں آہ

اسی عاشق کو دم شماری ہے

کیجو برباد اس کے کوچے میں

اے صبا خاک یہ ہماری ہے