Arooz is now on the App Store, for iPhone and iPad. Download

کاروبار عشق کی کثرت کبھی ایسی نہ تھی

منشی نوبت رائے نظر لکھنوی

کاروبار عشق کی کثرت کبھی ایسی نہ تھی

دل نہ تھا تو تنگئ فرصت کبھی ایسی نہ تھی

یاس سے ویرانئ حسرت کبھی ایسی نہ تھی

دل میں سناٹا نہ تھا وحشت کبھی ایسی نہ تھی

ان کے وعدہ پر ہمیں جینا پڑا ہے حشر تک

ورنہ طولانی شب فرقت کبھی ایسی نہ تھی

دیکھ ڈالے زندگی میں وصل و فرقت کے طلسم

غم کبھی ایسا نہ تھا راحت کبھی ایسی نہ تھی

آپ نے بیمار پرسی کی تو جینا ہے وبال

ورنہ مرنے کی مجھے حسرت کبھی ایسی نہ تھی

بامزا ہے کس قدر انکار ان کا وصل میں

تجھ میں اے خون جگر لذت کبھی ایسی نہ تھی

دل کو کیا سمجھا دیا نومیدیٔ جاوید نے

پردہ دار غم شب فرقت کبھی ایسی نہ تھی

زندگی کی کش مکش سے مر کے پائی کچھ نجات

اس سے پہلے اے نظرؔ فرصت کبھی ایسی نہ تھی