Arooz is now on the App Store, for iPhone and iPad. Download

ڈھونڈ لیتا جو انہیں ڈھونڈھنے والا ہوتا

شاہ اکبر داناپوری

ڈھونڈ لیتا جو انہیں ڈھونڈھنے والا ہوتا

دیکھ لیتا جو کوئی دیکھنے والا ہوتا

مجھ کو اس چاہ میں کچھ لطف دوبالا ہوتا

کاش ناصح ہی ترا چاہنے والا ہوتا

ہم بھی مرتے تری حوروں پہ مگر اے زاہد

ان بتوں سے جو کچھ انداز نرالا ہوتا

کیا گزرتی ہے ترے دل پہ بتا تو کمبخت

ہائے اتنا ہی کوئی پوچھنے والا ہوتا

میرے گھر پر سے ملیں آ کے بلائیں کتنی

تم نے جب تک مجھے بوسوں ہی پہ ٹالا ہوتا

اے غم یار مجھے تو نے گھلا کر کھایا

پہلے کھاتا تو ترے منہ کا نوالا ہوتا

آپ نے زلف کے عقدے تو بہت کھلوائے

میرا آسان سا اک کام نکالا ہوتا

تم نے کچھ عشق کا انجام نہ سوچا اکبرؔ

کیوں بگڑتی جو طبیعت کو سنبھالا ہوتا