Arooz is now on the App Store, for iPhone and iPad. Download

کبھی لطف زبان خوش بیاں تھے

واجد علی شاہ

کبھی لطف زبان خوش بیاں تھے

زمین شعر کے ہم آسماں تھے

لگا ٹھوکر نہ پائے ناز سے تو

کبھی تاج سر ہندوستاں تھے

زمیں پر چرخ دیتا ہے عبث تو

کبھی پیر فلک ہم بھی جواں تھے

زر گل بن گیا نالہ ہمارا

چمن میں بھی ہمیں آتش فشاں تھے

مکیں تھی روح چھوڑا جسم جس دم

کرائے کے یہ سب قصر و مکاں تھے

وہی جنگل ہے اب پر اس سے آگے

چمن تھے گل تھے ہم تھے باغباں تھے

نہیں اب ضبط باقی ناتواں ہوں

مرے آنسو نہایت رازداں تھے

مرے نالوں سے پہنچا قافلہ سب

جرس بے کار مشغول فغاں تھے

جگایا ناتواں بینوں نے ان کو

عبث وہ مائل خواب گراں تھے

دبے زیر زمیں اے چرخ مہ رو

یہاں دو دن کے یہ سب مہماں تھے

عجب موسم میں کٹتی تھی جوانی

چمن تھا اور لطف قصہ خواں تھے

کہاں مجنوں کہاں فرہادؔ و وامقؔ

ہماری موت کے سب نوحہ خواں تھے

سواد لکھنؤ چھوڑا الم میں

یہ اخترؔ بھی غضب کے خوش بیاں تھے