Arooz is now on the App Store, for iPhone and iPad. Download

کرے کیا کہ دل بھی تو مجبور ہے

Mir Taqi Mir (1723–1810)

کرے کیا کہ دل بھی تو مجبور ہے

زمیں سخت ہے آسماں دور ہے

جرس راہ میں جملہ تن شور ہے

مگر قافلے سے کوئی دور ہے

تمنائے دل کے لیے جان دی

سلیقہ ہمارا تو مشہور ہے

نہ ہو کس طرح فکر انجام کار

بھروسہ ہے جس پر سو مغرور ہے

پلک کی سیاہی میں ہے وہ نگاہ

کسو کا مگر خون منظور ہے

دل اپنا نہایت ہے نازک مزاج

گرا گر یہ شیشہ تو پھر چور ہے

کہیں جو تسلی ہوا ہو یہ دل

وہی بے قراری بدستور ہے

نہ دیکھا کہ لوہو تھنبا ہو کبھو

مگر چشم خوں بار ناسور ہے

تنک گرم تو سنگ ریزے کو دیکھ

نہاں اس میں بھی شعلۂ طور ہے

بہت سعی کریے تو مر رہیے میرؔ

بس اپنا تو اتنا ہی مقدور ہے